Patras Bokhari – Diplomats’ diplomat, Citizen of the World

Patras Bokhari – Diplomats’ diplomat, Citizen of the World from muntazir on Vimeo.

اس موسم میں جتنے پھول کھلیں گے
ان میں تیری یاد کی خوشبو ہر سو روشن ہوگی
پتہ پتہ بھولے بسرے رنگوں کی تصویربناتا گزرے گا
اک یاد جگاتا گزرے گا


اس موسم میں جتنے تارے آسمان پہ ظاہر ہوں گے
ان میں تیری یاد کا پیکر منظرمنظر عریاں ہوگا
تیری جھل مل یاد کا چہرا روپ دکھاتا گزرے گا


اس موسم میں
دل دنیا میں جو بھی آہٹ ہوگی
اس میں تیری یاد کا سایا گیت کی صورت ڈھل جائے گا
شبنم سے آواز ملا کر کلیاں اس کو دوہرائیں گی
تیری یاد کی سن گن لینے چاند مرے گھر اترے گا
آنکھیں پھول بچھائیں گی


اپنی یاد کی خوشبومجھ کو دان کرو اور اپنے دل میں آنے دو

یا میری جھولی کو بھر دو یا مجھ کو مرجانے دو

Posted in My World | 2 Comments

ہے یہی میری نماز ، ہے یہی میرا وضو


ہے یہی میری نماز ، ہے یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو

صحبت اہل صفا ، نور و حضور و سرور
سر خوش و پرسوز ہے لالہ لب آبجو

راہ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو

میرا نشیمن نہیں درگہ میر و وزیر
میرا نشیمن بھی تو ، شاخ نشیمن بھی تو

تجھ سے گریباں مرا مطلع صبح نشور
تجھ سے مرے سینے میں آتش ‘اللہ ھو’

تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ
تو ہی مری آرزو ، تو ہی مری جستجو

پاس اگر تو نہیں ، شہر ہے ویراں تمام
تو ہے تو آباد ہیں اجڑے ہوئے کاخ و کو

پھر وہ شراب کہن مجھ کو عطا کہ میں
ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سبو

چشم کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظر
جلوتیوں کے سبو ، خلوتیوں کے کدو

تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ
اپنے لیے لامکاں ، میرے لیے چار سو!

فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرف تمنا ، جسے کہہ نہ سکیں رو برو

Posted in My World | Leave a comment

. . . . نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں


نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جو کے لیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسیے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
ترے فراق میں یوں صبح شام کرتے ہیں

بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی
غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں
گرفتِ سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں

یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے

گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

Posted in My World | 1 Comment

گزشتہ سے پیوستہ

اس سے پہلے کہ میں آجکل کے شب و روزسلسہ وار بیان کروں بہتر یہ ہوگا کے پہلے یہ لکھ ڈالوں کے اتنے عرصے تک جب کے میں blog نہیں لکھ رہا تھا کیا کیا گزری – مارچ میں مجھے معلوم ہوا کے میری کمپنی جس میں میں کام کرتا تھا عنقریب بند ہو جاےگی – کمپنی کے باقی لوگوں یہ خبر کافی گراں گزی مگر میں پرامید تھا کے میرا سویڈش یونیورسٹی میں داخلہ ہو جاےگا – مئی کہ پہلے ہفتہ میں مجھے پتا چلا کے میرا داخلہ chalmers میں ہو گیا ہے. بہت خوشی ہوئی اور بعد میں بہت سے لوگوں سے اور خصوصا یھاں آ کر اندازہ ہوا کہ میں کتنا خوش نصیب ہوں – یھاں کے لوکل لوگ اس یونیورسٹی میں داخلے کو ترستے ہیں- جیسے تیسے مجھے visa ملا – ١٧ اگست کو آخری بار میں نے Ultimus کو خدا حافظ کہا اور ٢٨ اگست کو براستہ کراچی استنبول Gothenburg پہنچ گیا – Gothenburg کے بارے میں کافی معلومات میں پہلے سے ہی جانتا تھا اسلئے کوئی خاص پریشانی یا سرپرائز کا سامنا نہیں کرنا پڑا -  ایک چیز سے البتہ مانوس ہونے میں وقت لگا – یہاں کی ٹریفک الٹی سمت میں چلتی ہے – شروع کے دنوں میں سڑک پار کرتے ہوئے  غلط سمت میں دیکھتا تھا مگر یہاں ٹریفک کم ہے اسلئے کوئی خاص مسلہء نہیں ہوا – خاموش اور خوبصورت شہرہے اور لوگ بہت خاموش اور امن پسند ہیں -

شروع میں پڑھائی کچھ مشکل محسوس ہوتی رہی مگر بعد میں اندازہ ہو گیا – عید کے روز پاکستان کی بہت یاد آئ- یکم جنوری سے مجھے اپنے نام پر ایک اپارٹمنٹ مل گیا  جو تقریبا یونیورسٹی کے اندر ہی ہے – یہاں ہم کافی پاکستانی  اکٹھے رہ رہے ہیں اور زندگی میں مزہ ہے- یہاں آج سے گرمیوں کی ٣ ماہ کی چھٹیاں شروع ہیں – میرے بہت سے دوست پاکستان جا رہے ہیں مگر میں فلحال یہاں ہی ہوں اور Gothenburg University میں ایک کورس پڑھنے کا ارادہ ہے –
Posted in My World | Leave a comment

…ایک ہفتے بعد

انشاللہ ایک ہفتے بعد میں سلسلہ وار blog لکھا کروں گا-

Posted in My World | 1 Comment

نیا اصول

اب سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کے اردو میں blog لکھا کروں گا – اسکی وجہ یہ ہے کے میں سمجھتا ہوں کے مجھ پر اپنی قومی زبان میں بات کرنے کی ذمہ داری ہے – فاالحال میں اس کوشش میں ہوں کے کسی طرح سے google indic کی plugin اس blog پر install کر لوں – میں نے ایک اور طریقہ ڈھونڈ لیا ہے جسکے ذریئے میں آسانی سے اردو میں لکھ سکتا ہوں- اور میں اس بات پر بہت خوش ہوں -
Posted in My World | Leave a comment

ایک تجربہ

میں یہ تجربہ کرنا چاہ رہا ہوں کہ wordpress اردو کو support کرتا ہے یا نہیں



Posted in My World | Leave a comment

Chalmers 2009, New Batch Welcome

See the vide here.

Posted in My World | Tagged , , , | 1 Comment