اس سے پہلے کہ میں آجکل کے شب و روزسلسہ وار بیان کروں بہتر یہ ہوگا کے پہلے یہ لکھ ڈالوں کے اتنے عرصے تک جب کے میں blog نہیں لکھ رہا تھا کیا کیا گزری – مارچ میں مجھے معلوم ہوا کے میری کمپنی جس میں میں کام کرتا تھا عنقریب بند ہو جاےگی – کمپنی کے باقی لوگوں یہ خبر کافی گراں گزی مگر میں پرامید تھا کے میرا سویڈش یونیورسٹی میں داخلہ ہو جاےگا – مئی کہ پہلے ہفتہ میں مجھے پتا چلا کے میرا داخلہ chalmers میں ہو گیا ہے. بہت خوشی ہوئی اور بعد میں بہت سے لوگوں سے اور خصوصا یھاں آ کر اندازہ ہوا کہ میں کتنا خوش نصیب ہوں – یھاں کے لوکل لوگ اس یونیورسٹی میں داخلے کو ترستے ہیں- جیسے تیسے مجھے visa ملا – ١٧ اگست کو آخری بار میں نے Ultimus کو خدا حافظ کہا اور ٢٨ اگست کو براستہ کراچی استنبول Gothenburg پہنچ گیا – Gothenburg کے بارے میں کافی معلومات میں پہلے سے ہی جانتا تھا اسلئے کوئی خاص پریشانی یا سرپرائز کا سامنا نہیں کرنا پڑا - ایک چیز سے البتہ مانوس ہونے میں وقت لگا – یہاں کی ٹریفک الٹی سمت میں چلتی ہے – شروع کے دنوں میں سڑک پار کرتے ہوئے غلط سمت میں دیکھتا تھا مگر یہاں ٹریفک کم ہے اسلئے کوئی خاص مسلہء نہیں ہوا – خاموش اور خوبصورت شہرہے اور لوگ بہت خاموش اور امن پسند ہیں -
گزشتہ سے پیوستہ
شروع میں پڑھائی کچھ مشکل محسوس ہوتی رہی مگر بعد میں اندازہ ہو گیا – عید کے روز پاکستان کی بہت یاد آئ- یکم جنوری سے مجھے اپنے نام پر ایک اپارٹمنٹ مل گیا جو تقریبا یونیورسٹی کے اندر ہی ہے – یہاں ہم کافی پاکستانی اکٹھے رہ رہے ہیں اور زندگی میں مزہ ہے- یہاں آج سے گرمیوں کی ٣ ماہ کی چھٹیاں شروع ہیں – میرے بہت سے دوست پاکستان جا رہے ہیں مگر میں فلحال یہاں ہی ہوں اور Gothenburg University میں ایک کورس پڑھنے کا ارادہ ہے –
Advertisement